Wednesday, February 20, 2013

آنکھوں کا رنگ ، بات کا لہجہ بدل گیا(امجد اسلام امجد)

0 comments

آنکھوں کا رنگ ، بات کا لہجہ بدل گیا
وہ شخص ایک شام میں کتنا بدل گیا
کچھ دن تو میرا عکس رہا آئینے پہ نقش
پھر یوں ہوا کہ خود مرا چہرہ بدل گیا
جب اپنے اپنے حال پہ ہم تم نہ رہ سکے
تو کیا ہوا جو ہم سے زمانہ بدل گیا
قدموں تلے جو ریت بچھی تھی وہ چل پڑی
اس نے چھڑایا ہاتھ تو صحرا بدل گیا
کوئی بھی چیز اپنی جگہ پر نہیں رہی!
جاتے ہی ایک شخص کے، کیا کیا بدل گیا
اک سرخوشی کی موج نے کیسا کیا کمال
وہ بے نیاز، سارے کا سارا بدل گیا
اٹھ کر چلا گیا کوئی وقفے کے درمیاں
پردہ اٹھا تو سارا تماشہ بدل گیا
حیرت سے سارے لفظ اسے دیکھتے رہے
باتوں میں اپنی بات کو کیسا بدل گیا
کہنے کو ایک صحن میں دیوار ہی بنی
گھر کی فضا، مکان کا نقشہ بدل گیا
شاید وفا کے کھیل سے اکتا گیا تھا وہ
منزل کے پاس آ کے جو رستہ بدل گیا
قائم کسی بھی حال پہ دنیا نہیں رہی
تعبیر کھو گئی، کبھی سپنا بدل گیا
منظر کا رنگ اصل میں سایا تھا رنگ کا
جس نے اسے جدھر سے بھی دیکھا، بدل گیا
اندر کے موسموں کی خبر اس کو ہوگئی
اس نوبہار ناز کا چہرہ بدل گیا
آنکھوں میں جتنے اشک تھے، جگنو سے بن گئے
وہ مسکرایا اور مری دنیا بدل گیا
اپنی گلی میں اپنا ہی گھرڈھونڈتے ہیں لوگ
امجد یہ کون شہر کا نقشہ بدل گیا

کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو میں نے جیون وار دیا(عبید اللہ علیم)

0 comments

کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو میں نے جیون وار دیا
میں کیسا زندہ آدمی تھا اک شخص نے مجھ کو مار دیا

ایک سبز شاخ گلاب کی تھی اک دنیا اپنے خواب کی تھی
وہ ایک بہار جو آئی نہیں اس کے لئے سب کچھ ہار دیا

یہ سجا سجایا گھر ساتھی مری ذات نہیں مرا حال نہیں
اے کاش کبھی تم جان سکو اس سکھ نے جو آزار دیا

میں کھلی ہوئی اک سچائی مجھے جاننے والے جانتے ہیں
میں نے کن لوگوں سے نفرت کی اور کن لوگوں کو پیار دیا

وہ عشق بہت مشکل تھا مگر آسان نہ تھا یوں جینا بھی
اس عشق نے زندہ رہنے کا مجھے ظرف دیا پندار دیا

(عبید اللہ علیم)

آپس میں بات چیت کی زحمت کئے بغیر(اعتبار ساجد)

0 comments

آپس میں بات چیت کی زحمت کئے بغیر
بس چل رہے ہیں ساتھ، شکایت کئے بغیر

آنکھوں سے کر رہے ہیں بیاں اپنی کیفیت
ہونٹوں سے حالِ دل کی وضاحت کئے بغیر

دونوں کو اپنی اپنی انائیں عزیز ہیں
لیکن کسی کو نذرِ ملامت کئے بغیر

ٹھہرا ہوا ہے وقت مراسم کے درمیاں
پیدا خلیج میں کوئی وسعت کئے بغیر

حیران ہیں کہ اتنے برس کیسے کٹ گئے
رسمی سا کوئی عہدِ رفاقت کئے بغیر

وہ جا نہیں چکا ہے مگر اس کے باوجود
تنہا کھڑے ہیں ہم اُسے رخصت کئے بغیر

چارہ گروں سے دونوں کو پڑتا ہے واسطہ
لیکن کِسی کے حق میں خیانت کئے بغیر

اعتبار ساجد

Quotations Facebook Covers :)

0 comments

































Tuesday, February 19, 2013

خوبصورت دنیا (کیمرے کی آنکھ سے)

0 comments

There are the beautiful Pictures from some beautiful places of world. Photo Credit: Google Images :)
















آج کا شعر

دلوں میں فرق پڑ جائے تو اتنا یاد رکھنا تم

دلیلیں، منتیں ، سب فلسفے بیکار جاتے ہیں

Powered by Blogger.

آج کا شاعر

Faiz Ahmad Faiz