موضوعات
- Afsaanay (1)
- Facebook Cover pictures (1)
- MANTO (1)
- Mantoo (1)
- Rome (1)
- افسانے (1)
- افسانے، سعادت حسن منٹو، (1)
- روم، travel the world (1)
- منٹو (1)
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
کچھ میرے بارے میں
Followers
Sunday, February 17, 2013
Admin
12:34 AM
0
comments
12:34 AM
0
comments
”ساڑھے
تین لاکھ روپے لاگت آئی ہے برادر آپ کو رعایت سے نو سو میں دے دونگا ۔
گھر
کی بات ہے برادر ! ہم نے پانچ سو کا نقد اور چار سو کا چیک پیش کیا ۔
جنہیں
جھپٹ کر جیب میں رکھنے کے بعد وہ دس منٹ تک قبول کرنے سے انکار کرتے رہے ۔
انہوں
نے ہمارے وزیٹنگ کارڈ پر چھیالیس سال کی گارنٹی تحریر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس عرصے
میں پنکھوں کی کارکردگی میں بال برابر بھی فرق آجائے تو میری قبر پر جمعرات کی جمعرات
جوتے مارنا ۔
46 سال سے زیادہ کی گارنٹی پر ہم نے بھی اصرار نہیں کیا اس لیے کہ
پھر بات سنہ 2000 سے آگے نکل جاتی ۔
اور
اکیسویں صدی تک محض اس مقصد کے لیے زندہ رہنے کا ہمارا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ بس قبر
پر بیٹھے جوتے مارتے رہیں اور وہ بھی
ڈھاکہ میں۔ “
مشتاق
احمد یوسفی زرگزشت صفحہ 189
انقلاب پسند از سعادت حسن منٹو
Admin
12:26 AM
0
comments
12:26 AM
0
comments
میری
اور سلیم کی دوستی کو پانچ سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس زمانے میں ہم نے ایک ہی سکول
سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا، ایک ہی کالج میں داخل ہوئے اور ایک ہی ساتھ ایف
اے کے امتحان میں شامل ہوکر فیل ہوئے۔ پھر پرانا کالج چھوڑ کر ایک نئے کالج میں داخل
ہوئے۔۔۔۔۔اس سال میں تو پاس ہوگیا مگر سلیم سوئے قسمت سے پھر فیل ہوگیا۔
سلیم
کی دوبارہ ناکامیابی سے لوگ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ وہ آوارہ مزاج اور نالائق ہے۔۔۔۔۔۔یہ
بالکل افترا ہے۔ سلیم کا بغلی دوست ہونے کی حیثیت سے میں یہ وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ
سلیم کا دماغ بہت روشن ہے۔ اگر وہ پڑھائی کی طرف ذرا بھی توجہ دیتا تو کوئی وجہ نہ
تھی کہ وہ صوبہ بھر میں اول نہ رہتا۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس نے پڑھائی
کی طرف کیوں توجہ نہ دی؟
جہاں
تک میرا ذہن کام دیتا ہے مجھے اسکی تمام تر وجہ وہ خیالات معلوم ہوتے ہیں جو ایک عرصے
سے اسکے دل و دماغ پر آہستہ آہستہ چھا رہے تھے۔
دسویں
جماعت اور کالج میں داخل ہوتے وقت سلیم کا دماغ ان تمام الجھنوں سے آزاد تھا جس نے
اسے ان دنوں پاگل خانے کی چاردیواری میں مقید کر رکھا ہے۔ ایام کالج میں وہ دیگر طلبہ
کی طرح ہر کھیل کود میں حصہ لیا کرتا تھا۔ سب لڑکوں میں ہردلعزیز تھا مگر یکایک اسکے
والد کی ناگہانی موت نے اس کے متبسم چہرے پر غم کی نقاب اوڑھا دی۔۔۔۔۔۔اب کھیل کود
کی جگہ غور و فکر نے لے لی۔
وہ
کیا خیالات تھے، جو سلیم کے مضطرب دماغ میں پیدا ہوئے؟ یہ مجھے معلوم نہیں۔ سلیم کی
نفسیات کا مطالعہ کرنا بہت اہم کام ہے۔ اسکے علاوہ وہ خود اپنی دلی آواز سے ناآشنا
تھا۔ اسنے کئی مرتبہ گفتگو کرتے وقت یا یونہی سیر کرتے ہوئے اچانک میرا بازو پکڑ کر
کہا ہے۔ “عباس جی چاہتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاں،
ہاں، کیا جی چاہتا ہے” میں نے اسکی طرف تمام توجہ مبذول کرکے پوچھا ہے۔ مگر میرے اس
استفسار پر اس کے چہرے کی غیر معمولی تبدیلی اور گلے میں سانس کے تصادم نے صاف طور
پر ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنے دلی مدعا کو خود نہ پہچانتے ہوئے الفاظ میں ظاہر نہیں کرسکتا۔
وہ
شخص جو اپنے احساسات کو کسی شکل میں پیش کرکے دوسرے ذہن پر منتقل کرسکتا ہے وہ دراصل
اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کی قدرت کا مالک ہے۔ اور وہ شخص جو محسوس کرتا ہے مگر اپنے
احساس کو خود آپ اچھی طرح نہیں سمجھتا اور پھر اس اضطراب کو بیان کرنے کی قدرت نہیں
رکھتا اس شخص کے مرادف ہے جو اپنے حلق میں ٹھنسی ہوئی چیر کو باہر نکالنے کی کوشش کر
رہا ہے مگر وہ گلے سے نیچے اترتی جارہی ہو۔۔۔۔۔۔یہ ایک ذہنی عذاب ہے جسکی تفصیل لفظوں
میں نہیں آسکتی۔
سلیم
شروع ہی سے اپنی آواز سے نا آشنا رہا ہے اور ہوتا بھی کیونکر جب اسکے سینے میں خیالات
کا ایک ہجوم چھایا رہتا تھا اور بعض اوقات ایسا بھی ہوا ہے کہ وہ بیٹھا بیٹھا اٹھ کھڑا
ہوا ہے اور کمرے میں چکر لگا کر لمبے لمبے سانس بھرنے شروع کردیے۔۔۔۔۔غالباً وہ اپنے
اندرونی انتشار سے تنگ آکر ان خیالات کو جو اسکے سینے میں بھاپ کے مانند چکر لگا رہے
ہوتے، سانسوں کے ذریعے باہر نکالنے کا کوشاں ہوا کرتا تھا۔ اضطراب کے انہی تکلیف دہ
لمحات میں اسنے اکثر اوقات مجھ سے مخاطب ہو کر کہا ہے۔ “عباس، یہ خاکی کشتی کسی روز
تند موجوں کی تاب نہ لا کر چٹانوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔۔مجھے اندیشہ
ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ
اپنے اندیشے کو پوری طرح بیان نہیں کرسکتا تھا۔
سلیم
کسی متوقع حادثے کا منتظر ضرور تھا مگر اسے یہ معلوم نہ تھا کہ وہ حادثہ کس شکل میں
پردۂ ظہور پر نمودار ہوگا۔۔۔۔۔اسکی نگاہیں ایک عرصے سے دھندلے خیالات کی صورت میں ایک
موہوم سایہ دیکھ رہی تھیں جو اسکی طرف بڑھتا چلا آرہا تھا، مگر وہ یہ نہیں بتا سکتا
تھا کہ اس تاریک شکل کے پردے میں کیا نہاں ہے۔
میں
نے سلیم کی نفسیات سمجھنے کی بہت کوشش کی ہے، مگر مجھے اسکی منقلب عادات کے ہوتے ہوئے
کبھی معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ کن گہرائیوں میں غوطہ زن ہے۔ اور اس دنیا میں رہ کر اپنے
مستقبل کیلیے کیا کرنا چاہتا ہے جبکہ اپنے والد کے انتقال کے بعد وہ ہر قسم کے سرمائے
سے محروم کردیا گیا تھا۔
میں
ایک عرصے سے سلیم کو منقلب ہوتے دیکھ رہا تھا اسکی عادات دن بدن بدل رہی تھیں۔۔۔۔۔کل
کا کھلنڈرا لڑکا، میرا ہم جماعت ایک مفکر میں تبدیل ہورہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تبدیلی میرے
لئے سخت باعثِ حیرت تھی۔
کچھ
عرصے سے سلیم کی طبعیت پر ایک غیر معمولی سکون چھا گیا تھا۔ جب دیکھو اپنے گھر میں
خاموش بیٹھا ہوا ہے اور اپنے بھاری سر کو گھٹنوں میں تھامے کچھ سوچ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔وہ
کیا سوچ رہا ہوتا، یہ میری طرح خود اسے بھی معلوم نہ تھا۔ ان لمحات میں میں نے اسے
اکثر اوقات اپنی گرم آنکھوں پر دوات کا آہنی ڈھکنا یا گلاس کا بیرونی حصہ پھیرتے دیکھا
ہے۔۔۔۔۔۔شاید وہ اس عمل سے اپنی آنکھوں کی حرارت کم کرنا چاہتا تھا۔
سلیم
نے کالج چھوڑتے ہی غیر ملکی مصنفوں کی بھاری بھر کم تصانیف کا مطالعہ شروع کردیا تھا۔
شروع شروع میں مجھے اسکی میز پر ایک کتاب نظر آئی۔ پھر آہستہ آہستہ اس الماری میں جس
میں شطرنج، تاش اور اسی قسم کی دیگر کھیلیں رکھا کرتا تھا، کتابیں ہی کتابیں نظر آنے
لگیں۔۔۔۔۔اسکے علاوہ وہ کئی کئی دنوں تک گھر سے کہیں باہر چلا جایا کرتا تھا۔
جہاں
تک میرا خیال ہے سلیم کی طبیعت کا غیر معمولی سکون ان کتابوں کے انتھک مطالعہ کا نتیجہ
تھا جنہیں اسنے بڑے قرینے سے الماری میں سجا رکھا تھا۔
سلیم
کا عزیز ترین دوست ہونے کی حیثیت میں، میں اس کی طبیعت کے غیر معمولی سکون سے سخت پریشان
تھا۔ مجھے اندیشہ تھا کہ یہ سکون کسی وحشت خیز طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ اسکے علاوہ مجھے
سلیم کی صحت کا بھی بہت خیال تھا۔ وہ پہلے ہی بہت کمزور جثے کا واقع ہوا تھا، اس پر
اس نے خواہ مخواہ اپنے آپ کو خدا معلوم کن کن الجھنوں میں پھنسا لیا تھا۔ سلیم کی عمر
بمشکل بیس سال کی ہوگی مگر اسکی آنکھوں کے نیچے شب بیداری کی وجہ سے سیاہ حلقے پڑ گئے
تھے۔ پیشانی جو اس سے قبل بالکل ہموار تھی اب اس پر کئی شکن پڑے رہتے تھے۔۔۔۔۔جو اسکی
ذہنی پریشانی کو ظاہر کرتے تھے۔ چہرہ جو کچھ عرصہ پہلے بہت شگفتہ ہوا کرتا تھا اب اس
پر ناک اور لب کے درمیان گہری لکیریں پڑ گئی تھیں جنہوں نے سلیم کو قبل از وقت معمر
بنا دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس غیر معمولی تبدیلی کو میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر
ہوتے دیکھا ہے۔ جو مجھے ایک شعبدے سے کم معلوم نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔یہ کیا کم تعجب کی بات
ہے کہ میری عمر کا لڑکا میری نظروں کے سامنے بوڑھا ہو جائے۔
سلیم
پاگل خانے میں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ مگر اسکے یہ معنی نہیں ہوسکتے کہ وہ سڑی اور
دیوانہ ہے۔ اسے غالباً اس بنا پر پاگل خانے بھیجا گیا ہے کہ وہ بازاروں میں بلند بانگ
تقریریں کرتا ہے۔ راہ گزروں کو پکڑ پکڑ کر انہیں زندگی کے مشکل مسائل بتا کر جواب طلب
کرتا ہے اور امراء کے حریر پوش بچوں کا لباس اتار کر ننگے بچوں کو پہنا دیتا ہے۔۔۔۔۔۔ممکن
ہے یہ حرکات ڈاکٹروں کے نزدیک دیوانگی کی علامتیں ہوں مگر میں تیقن کے ساتھ کہہ سکتا
ہوں کہ سلیم پاگل نہیں ہے بلکہ وہ لوگ جنہوں نے اسے امنِ عامہ میں خلل ڈالنے والا تصور
کرتے ہوئے آہنی سلاخون کے پنجرے میں قید کردیا ہے کسی دیوانے حیوان سے کم نہیں ہیں۔
اگر
وہ اپنی غیر مربوط تقریر کے ذریعے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانا چاہتا ہے تو کیا انکا
فرض نہیں ہے کہ وہ اسکے ہر لفظ کو غور سے سنیں؟
اگر
وہ راہ گزاروں کے ساتھ فلسفۂ حیات پر تبادلۂ خیالات کرنا چاہتا ہے تو کیا اسکے معنی
یہ لئے جائینگے کہ اسکا وجود مجلسی دائرہ کیلیے نقصان دہ ہے؟ کیا زندگی کے حقیقی معانی
سے باخبر ہونا ہر انسان کا فرض نہیں ہے؟
اگر
وہ متمول اشخاص کے بچوں کا لباس اتار کر غربا کے برہنہ بچوں کا تن ڈھانپتا ہے تو کیا
یہ عمل ان افراد کو انکے فرائض سے آگاہ نہیں کرتا جو فلک بوس عمارتوں میں دوسرے لوگوں
کے بل بوتے پر آرام کی زندگی بسر کر رہے ہیں؟ کیا ننگوں کی ستر پوشی کرنا ایسا فعل
ہے کہ اسے دیوانگی پر محمول کیا جائے؟
سیلم
ہرگز پاگل نہیں ہے مگر مجھے یہ تسلیم ہے کہ اسکے افکار نے اسے بیخود ضرور بنا رکھا
ہے۔ دراصل وہ دنیا کو کچھ پیغام دینا چاہتا ہے مگر دے نہیں سکتا۔ ایک کم سن بچے کی
طرح وہ تتلا تتلا کر اپنے قلبی احساسات بیان کرنا چاہتا ہے مگر الفاظ اسکی زبان پر
آتے ہی بکھر جاتے ہیں۔
وہ
اس سے قبل ذہنی اذیت میں مبتلا تھا مگر اب اسے اور اذیت میں ڈال دیا گیا ہے۔ وہ پہلے
ہی سے اپنے افکار کی الجھنوں میں گرفتار ہے اور اب اسے زندان نما کوٹھڑی میں قید کر
دیا گیا ہے۔ کیا یہ ظلم نہیں ہے؟
میں
نے آج تک سلیم کی کوئی بھی ایسی حرکت نہیں دیکھی جس سے میں یہ نتیجہ نکال سکوں کہ وہ
دیوانہ ہے ہاں البتہ کچھ عرصے سے میں اسکے ذہنی انقلابات کا مشاہدہ ضرور کرتا رہا ہوں۔
شروع
شروع میں جب میں نے اسکے کمرے کے تمام فرنیچر کو اپنی اپنی جگہ سے ہٹا ہوا پایا تو
میں نے اس تبدیلی کی طرف خاص توجہ نہ دی، دراصل میں نے اس وقت خیال کیا کہ شاید سلیم
نے فرنیچر کی موجودہ جگہ کو زیادہ موزؤں خیال کیا ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ میری نظروں
کو جو کرسیوں اور میزوں کو کئی سالوں سے ایک جگہ دیکھنے کی عادی تھیں وہ غیر متوقع
تبدیلی بہت بھلی معلم ہوئی۔
اس
واقعے کے چند روز بعد جب میں کالج سے فارغ ہو کر سلیم کے کمرے میں داخل ہوا تو کیا
دیکھتا ہوں کہ فلمی ممثلوں کی دو تصاویر جو ایک عرصے سے کمرے کی دیواروں پر آویزاں
تھیں اور جنہیں میں نے اور سلیم نے بہت مشکل کے بعد فراہم کیا تھا باہر ٹوکری میں پھٹی
پڑی ہیں اور انکی جگہ انہی چوکھٹوں میں مختلف مصنفوں کی تصویریں لٹک رہی ہیں۔۔۔۔۔۔چونکہ
میں خود ان تصاویر کا اتنا مشاق نہ تھا اسلئے مجھے سلیم کا یہ انتخاب بہت پسند آیا
چنانچہ ہم اس روز دیر تک ان تصویروں کے متعلق گفتگو بھی کرتے رہے۔
جہاں
تک مجھے یاد ہے اس واقعہ کے بعد سلیم کے کمرے میں ایک ماہ تک کوئی خاص قابلِ ذکر تبدیلی
واقع نہیں ہوئی مگر اس عرصے کے بعد میں نے ایک روز اچانک کمرے میں بڑا سا تخت پڑا پایا
جس پر سلیم نے کپڑا بچھا کر کتابیں چن رکھی تھیں اور آپ قریب ہی زمین پر ایک تکیہ کا
سہارا لیے کچھ لکھنے میں مصروف تھا۔ میں یہ دیکھ کر سخت متعجب ہوا اور کمرے میں داخل
ہوتے ہی سلیم سے یہ سوال کیا۔ کیوں میاں، اس تخت کے کیا معانی؟
سلیم،جیسا
کہ اسکی عادت تھی، مسکرایا اور کہنے لگا۔ “کرسیوں پر روزانہ بیٹھتے بیٹھتے طبیعت اکتا
گئی ہے، اب یہ فرش والا سلسلہ ہی رہے گا۔”
بات
معقول تھی، میں چپ رہا۔ واقعی روزانہ ایک ہی چیز کا استعمال کرتے کرتے طبیعت ضرور اچاٹ
ہو جایا کرتی ہے مگر جب پندرہ بیس روز کے بعد میں نے وہ تخت مع تکیئے کے غائب پایا
تو میرے تعجب کی کوئی انتہا نہ رہی اور مجھے شبہ سا ہوا کہ کہیں میرا دوست واقعی خبطی
تو نہیں ہوگیا ہے۔
سلیم
سخت گرم مزاج واقع ہوا ہے۔ اسکے علاوہ اسکے وزنی افکار نے اسے معمول سے زیادہ چڑچڑا
بنا رکھا ہے۔ اسلئے میں عموماً اس سے ایسے سوالات نہیں کیا کرتا جو اسکے دماغی توازن
کو درہم برہم کردیں یا جس سے وہ خواہ مخواہ کھج جائے۔
فرنیچر
کی تبدیلی، تصویروں کا انقلاب، تخت کی آمد اور پھر اسکا غائب ہوجانا واقعی کسی حد تک
تعجب خیز ضرور ہیں اور واجب تھا کہ میں نے ان امور کی وجہ دریافت کرتا مگر چونکہ مجھے
سلیم کو آزردہ خاطر کرنا اور اسکے کام میں دخل دینا منظور نہ تھا اسلیے میں خاموش رہا۔
ٹھوڑے
عرصے کے بعد سلیم کے کمرے میں ہر دوسرے تیسرے دن کوئی نہ کوئی تبدیلی دیکھنا میرا معمول
ہوگیا۔۔۔۔اگر آج کمرے میں تخت موجود ہے تو ہفتے کے بعد وہاں سے اٹھا دیا گیا ہے۔ اسکے
دو روز بعد وہ میز جو کچھ عرصہ پہلے کمرے کے دائیں طرف پڑی تھی، رات رات میں وہاں سے
اٹھا کر دوسری طرف رکھ دی گئی ہے۔ انگھیٹی پر رکھی ہوئی تصاویر کے زاویے بدلے جارہے
ہیں۔ کپڑے لٹکانے کی کھونٹیاں ایک جگہ سے اکھیڑ کر دوسری جگہ پر جڑ دی گئی ہیں۔ کرسیوں
کے رخ تبدیل کئے گئے ہیں، گویا کمرے کی ہر شے سے ایک قسم کی قواعد کرائی جاتی تھی۔
ایک
روز جب میں نے کمرے کے تمام فرنیچر کو مخالف رخ میں پایا تو مجھ سے رہا نہ گیا اور
میں نے سلیم سے دریافت کر ہی لیا۔ “سلیم میں ایک عرصے سے اس کمرے کو گرگٹ کی طرح رنگ
بدلتے دیکھ رہا ہوں، آخر بتاؤ تو سہی یہ تمھارا کوئی نیا فلسفہ ہے؟”
“تم
جانتے نہیں ہو، میں انقلاب پسند ہوں۔” سلیم نے جواب دیا۔
یہ
سن کر میں اور بھی متعجب ہوا۔ اگر سلیم نے یہ الفاظ اپنی حسبِ معمول مسکراہٹ کے ساتھ
کہے ہوتے تو میں یقینی طور پر یہ خیال کرتا کہ وہ صرف مذاق کررہا ہے مگر یہ جواب دیتے
وقت اسکا چہرہ اس امر کا شاہد تھا کہ وہ سنجیدہ ہے اور میرے سوال کا جواب وہ انہی الفاظ
میں دینا چاہتا ہے۔ لیکن پھر بھی میں تذبذب کی حالت میں تھا، چنانچہ میں نے اس سے کہا۔
“مذاق کر رہے ہو یار؟”
“تمھاری
قسم بہت بڑا انقلاب پسند۔” یہ کہتے ہوئے وہ کھل کھلا کر ہنس پڑا۔
مجھے
یاد ہے کہ اسکے بعد اسنے ایسی گفتگو شروع کی تھی۔ مگر ہم دونوں کسی اور موضوع پر اظہارِ
خیالات کرنے لگ گئے تھے۔۔۔۔۔یہ سلیم کی عادت ہے کہ وہ بہت سی باتوں کو دلچسپ گفتگو
کے پردے میں چھپا لیا کرتا ہے۔
ان
دنوں جب کبھی میں سلیم کے جواب پر غور کرتا ہوں تو مجھے معلوم ہوتا ہے کہ سلیم درحقیقت
انقلاب پسند واقع ہوا ہے۔ اسکے یہ معنی نہیں کہ وہ کسی سلطنت کا تختہ الٹنے کے درپے
ہے یا دیگر انقلاب پسندوں کی طرح چوراہوں میں بمب پھینک کر دہشت پھیلانا چاہتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسکی نظریں اپنے کمرے میں پڑی ہوئی اشیاء کو ایک ہی جگہ پر نہ دیکھ سکتی
تھیں۔ ممکن ہے میرا یہ قیافہ کسی حد تک غلط ہو، مگر میں یہ وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ
اسکی جستجو کسی ایسے انقلاب کی طرف رجوع کرتی ہے، جسکے آثار اسکے کمرے کی روزانہ تبدیلیوں
سے ظاہر ہیں۔
بادی
النظر میں کمرے کی اشیاء کو روز الٹ پلٹ کرتے رہنا نیم دیوانگی کے مرادف ہے۔ لیکن اگر
سلیم کی ان بے معنی حرکات کا عمیق مطالعہ کیا جائے تو یہ امر روشن ہو جائیگا کہ ان
کے پسِ پردہ ایک ایسی قوت کام کر رہی تھی جس سے وہ خود ناآشنا تھا۔۔۔۔۔۔اسی قوت نے
جسے میں ذہنی تعصب کا نام دیتا ہوں، سلیم کے دماغ میں تلاطم بپا کردیا۔ اور اسکا نتیجہ
یہ ہوا کہ وہ اس طوفان کی تاب نہ لا کر از خود رفتہ ہوگیا، اور پاگل خانے کی چار دیواری
میں قید کردیا گیا۔
پاگل
خانے جانے سے کچھ روز پہلے سلیم مجھے اچانک شہر کے ایک ہوٹل میں چائے پیتا ہوا ملا۔
میں اور وہ دونوں ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھ گئے۔ اسلیے کہ میں اس سے کچھ گفتگو کرنا
چاہتا تھا۔ میں نے اپنے بازار کے چند دکانداروں سے سنا تھا کہ اب سلیم ہوٹلوں میں پاگلوں
کی طرح تقریریں کرتا ہے۔ میں یہ چاہتا تھا کہ اسے سے فوراً مل کر اسے اس قسم کی حرکات
کرنے سے منع کردوں۔ اسکے علاوہ یہ اندیشہ تھا کہ شاید وہ کہیں سچ مچ خبط الحواس ہی
نہ ہوگیا ہو۔ چونکہ میں اس سے فوراً ہی بات کرنا چاہتا تھا، اسلیے میں نے ہوٹل ہی میں
گفتگو کرنا مناسب سمجھا۔
کرسی
پر بیٹھتے وقت میں غور سے سلیم کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ مجھے اسطرح گھورتے
دیکھ کر سخت متعجب ہوا۔ وہ کہنے لگا۔۔۔۔۔ “شاید میں سلیم نہیں ہوں۔”
آواز
میں کس قدر درد تھا۔ گو یہ جملہ آپ کی نظروں میں بالکل سادہ معلوم ہو مگر خدا گواہ
ہے میری آنکھیں بے اختیار نمناک ہوگئیں۔ “شاید میں سلیم نہیں ہوں۔”۔۔۔۔۔۔گویا وہ ہر
وقت اس بات کا متوقع تھا کہ کسی روز اسکا بہترین دوست بھی اسے نہ پہچان سکے گا۔ شاید
اسے معلوم تھا کہ وہ بہت حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔
میں
نے ضبط سے کام لیا، اور اپنے آنسوؤں کو رومال میں چھپا کر اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھتے
ہوئے کہا۔
“سلیم
میں نے سنا ہے کہ تم نے میرے لاہور جانے کے بعد یہاں بازاروں میں تقریریں کرنی شروع
کردی ہیں، جانتے بھی ہو، اب تمھیں شہر کا بچہ بچہ پاگل کے نام سے پکارتا ہے۔”
“پاگل،
شہر کا بچہ بچہ مجھے پاگل کے نام سے پکارتا ہے۔۔۔۔۔۔پاگل۔۔۔۔۔۔۔ہاں عباس، میں پاگل
ہوں۔۔۔۔۔۔۔پاگل۔۔۔۔۔دیوانہ ۔۔۔۔۔۔۔خرد باختہ۔۔۔۔۔۔۔۔لوگ مجھے دیوانہ کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔معلوم
ہے کیوں؟”
یہاں
تک کہہ کر وہ میری طرف سر تا پا استفہام بن کر دیکھنے لگا۔ مگر میری طرف سے کوئی جواب
نہ پا کر وہ دوبارہ گویا ہوا۔
“اس
لئے کہ میں انہیں غریبوں کے ننگے بچے دکھلا دکھلا کر یہ پوچھتا ہوں کہ اس بڑھتی ہوئی
غربت کا کیا علاج ہوسکتا ہے؟ وہ مجھے کوئی جواب نہیں دے سکتے، اسلئے وہ مجھے پاگل تصور
کرتے ہیں۔۔۔۔۔آہ اگر مجھے صرف یہ معلوم ہو کہ ظلمت کے اس زمانے میں روشنی کی ایک شعاع
کیونکر فراہم کی جاسکتی ہے۔ ہزاروں غریب بچوں کا تاریک مستقبل کیونکر منور بنایا جا
سکتا ہے۔”
“وہ
مجھے پاگل کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔وہ جن کی نبضِ حیات دوسروں کے خون کی مرہونِ منت ہے۔ وہ جن
کا فردوس غرباء کے جہنم کی مستعار اینٹوں سے استوار کیا گیا ہے، وہ جن کے سازِ عشرت
کے ہر تار کے ساتھ بیواؤں کی آہیں، یتیموں کی عریانی، لاوارث بچوں کی صدائے گریہ لپٹی
ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔کہَیں، مگر ایک زمانہ آنے والا ہے جب یہی پروردۂ غربت اپنے دلوں کے
مشترکہ لہو میں انگلیاں ڈبو ڈبو کر ان لوگوں کی پیشانیوں پر اپنی لعنتیں لکھیں گے۔۔۔۔وہ
وقت نزدیک ہے جب ارضی جنت کے دروازے ہر شخص کیلیے وا ہونگے۔”
“میں
پوچھتا ہوں کہ اگر میں آرام میں ہوں تو کیا وجہ ہے کہ تم تکلیف کی زندگی بسر کرو؟۔۔۔۔۔۔کیا
یہی انسانیت ہے کہ میں کارخانے کا مالک ہوتے ہوئے ہر شب ایک نئی رقاصہ کا ناچ دیکھتا
ہوں، ہر روز کلب میں سینکڑوں روپے قمار بازی کی نذر کر دیتا ہوں، اور اپنی نکمی سے
نکمی خواہش پر بے دریغ روپیہ بہا کر اپنا دل خوش کرتا ہوں، اور میرے مزدورں کو ایک
وقت کی روٹی نصیب نہیں ہوتی۔ انکے بچے مٹی کے ایک کھلونے کیلیے ترستے ہیں۔۔۔۔۔پھر لطف
یہ ہے کہ میں مہذب ہوں، میری ہر جگہ عزت کی جاتی ہے اور وہ لوگ جنکا پسینہ میرے لئے
گوہر تیار کرتا ہے، مجلسی دائرے میں حقارت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ میں خود انسے
نفرت کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔تم ہی بتاؤ، کیا یہ دونوں ظالم و مظلوم اپنے فرائض سے ناآشنا ہیں؟”
“میں
ان دونوں کو انکے فرائض سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں، مگر کسطرح کروں؟۔۔۔۔۔۔یہ مجھے معلوم
نہیں۔”
سلیم
نے اس قدر کہہ کر ہانپتے ہوئے ٹھنڈی چائے کا ایک گھونٹ بھرا اور میری طرف دیکھے بغیر
پھر بولنا شروع کردیا۔
“میں
پاگل نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔۔مجھے ایک وکیل سمجھو، بغیر کسی امید کے، جو اس چیز کی وکالت کر
رہا ہے، جو بالکل گم ہو چکی ہے۔۔۔۔۔۔میں ایک دبی ہوئی آواز ہوں۔۔۔۔۔انسانیت ایک منہ
ہے اور میں ایک چیخ۔ میں اپنی آواز دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہوں مگر وہ میرے
خیالات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔۔۔۔۔میں بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں مگر اسی لئے کچھ کہہ
نہیں سکتا کہ مجھے بہت کچھ کہنا ہے، میں اپنا پیغام کہاں سے شروع کروں، یہ مجھے معلوم
نہیں۔ میں اپنی آواز کے بکھرے ہوئے ٹکڑے فراہم کرتا ہوں۔ ذہنی اذیت کے دھندلے غبار
میں سے چند خیالات تمہید کے طور پر پیش کرنے کی سعی کرتا ہوں۔ اپنے احساسات کی عمیق
گہرائیوں سے چند احساس سطح پر لاتا ہوں کہ دوسرے اذہان پر منتقل کرسکوں مگر میری آواز
کے ٹکڑے پھر منتشر ہو جاتے ہیں، خیالات پھر تاریکی میں روپوش ہو جاتے ہیں۔ احساسات
پھر غوطہ لگا جاتے ہیں، میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔”
“جب
میں یہ دیکھتا ہوں کہ میرے خیالات منتشر ہونے کے بعد پھر جمع ہو رہے ہیں تو جہاں کہیں
میری قوتِ گویائی کام دیتی ہے میں شہر کے رؤسا سے مخاطب ہو کر یہ کہنے لگ جاتا ہوں:۔
“مرمریں
محلات کے مکینو، تم اس وسیع کائنات میں صرف سورج کی روشنی دیکھتے ہو، مگر یقین جانو
اسکے سائے بھی ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔تم مجھے سلیم کے نام سے جانتے ہو، یہ غلطی ہے۔۔۔۔۔۔میں
وہ کپکپی ہوں جو ایک کنواری لڑکی کے جسم پر طاری ہوتی ہے جب وہ غربت سے تنگ آکر پہلی
دفعہ ایوانِ گناہ کی طرف قدم بڑھانے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔آؤ ہم سب کانپیں۔”
“تم
ہنستے ہو، مگر تمھیں مجھے ضرور سننا ہوگا، میں ایک غوطہ خور ہوں۔ قدرت نے مجھے تاریک
سمندر کی گہرائیوں میں ڈبو دیا کہ میں کچھ ڈھونڈ کر لاؤں۔۔۔۔۔۔میں ایک بے بہا موتی
لایا ہوں، وہ سچائی ہے، اس تلاش میں میں نے غربت دیکھی ہے، گرسنگی برداشت کی ہے۔ لوگوں
کی نفرت سے دوچار ہوا ہوں۔ جاڑے میں غریبوں کی رگوں میں خون کو منجمد ہوتے دیکھا ہے،
نوجوان لڑکیوں کو عشرت کدوں کی زینت بڑھاتے دیکھا ہے۔ اسلیے کہ وہ مجبور تھیں۔۔۔۔۔اب
میں یہی کچھ تمھارے منہ پر قے کردینا چاہتا ہوں کہ تمھیں تصویرِ زندگی کا تاریک پہلو
نظر آجائے۔”
“انسانیت
ایک دل ہے، ہر شخص کے پہلو میں ایک ہی قسم کا دل موجود ہے۔ اگر تمھارے بوٹ غریب مزدورں
کے ننگے سینوں پر ٹھوکریں لگاتے ہیں، اگر تم اپنے شہوانی جذبات کی بھڑکتی ہوئی آگ کسی
ہمسایہ نادار لڑکی کی عصمت دری سے ٹھنڈی کرتے ہو، اگر تمھاری غفلت سے ہزار ہا یتیم
بچے گہوارۂ جہالت میں پل کر جیلوں کو آباد کرتے ہیں، اگر تمھارا دل کاجل کے مانند سیاہ
ہے، تو یہ تمھارا قصور نہیں۔ ایوانِ معاشرت ہی کچھ ایسے ڈھب پر استوار کیا گیا ہے کہ
اسکی ہر چھت اپنی ہمسایہ چھت کو دبائے ہوئے ہے، ہر اینٹ دوسری اینٹ کو۔”
“جانتے
ہو موجودہ نظام کے کیا معنی ہیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہ لوگوں کے سینوں کو جہالت کدہ بنائے،
انسانی تعزز کی کشتی ہوا و ہوس کی موجوں میں بہا دے۔ جوان لڑکیوں کی عصمت چھین کر انہیں
ایوانِ تجارت میں کھلے بندوں حسن فروشی پر مجبور کردے۔ غریبوں کا خون چوس چوس کر انہیں
جلی ہوئی راکھ کے مانند قبر کی مٹی میں یکساں کردے۔۔۔۔۔۔کیا اسی کو تم تہذیب کا نام
دیتے ہو۔۔۔۔۔۔۔بھیانک قصابی، تاریک شیطنیت۔”
“آہ،
اگر تم صرف وہ دیکھ سکو جسکا میں نے مشاہدہ کیا ہے۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو قبر نما
جھونپڑوں میں زندگی کے سانس پورے کر رہے ہیں۔ تمھاری نظروں کے سامنے ایسے افراد موجود
ہیں جو موت کے منہ میں جی رہے ہیں۔ ایسی لڑکیاں ہیں جو بارہ سال کی عمر میں عصمت فروشی
شروع کرتی ہیں اور بیس سال کی عمر میں قبر کی سردی سے لپٹ جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔مگر تم۔۔۔۔۔۔۔ہاں
تم، جو اپنے لباس کی تراش کے متعلق گھنٹوں غور کرتے رہتے ہیں، یہ نہیں دیکھتے بلکہ
الٹا غریبوں سے چھین کر امراء کی دولتوں میں اضافہ کرتے ہو، مزدور سے لیکر کاہل کے
حوالے کردیتے ہو۔ گوڈری پہنے انسان کا لباس اتار کر حریر پوش کے سپرد کردیتے ہو۔”
“تم
غرباء کے غیر مختتم مصائب پر ہنستے ہو۔ مگر تمھیں یہ معلوم نہیں کہ اگر درخت کا نچلا
حصہ لاغر و مردہ ہو رہا ہے تو کسی روز وہ بالائی حصے کے بوجھ کو برداشت نہ کرتے ہوئے
گر پڑے گا۔”
یہاں
تک بول کر سلیم خاموش ہوگیا اور ٹھنڈی چائے کو آہستہ آہستہ پینے لگا۔
تقریر
کے دوران میں سحرزدہ آدمی کی طرح چپ چاپ بیٹھا اس کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ جو بارش
کی طرح برس رہے تھے، بغور سنتا رہا۔ میں سخت حیران تھا کہ وہ سلیم جو آج سے کچھ عرصہ
پہلے بالکل خاموش ہوا کرتا تھا، اتنی طویل تقریر کیونکر جاری رکھ سکا ہے، اسکے خیالات
کس قدر حق پر مبنی ہیں اور آواز میں کتنا اثر تھا۔ میں اسکی تقریر کے متعلق سوچ رہا
تھا کہ وہ پھر بولا۔
“خاندان
کے خاندان شہر کے یہ نہنگ نگل جاتے ہیں، عوام کے اخلاق قوانین سے مسخ کئے جاتے ہیں۔
لوگوں کے زخم جرمانوں سے کریدے جاتے ہیں۔ ٹیکسوں کے ذریعے دامنِ غربت کترا جاتا ہے۔
تباہ شدہ ذہنیت جہالت کی تاریکی سیاہ بنا دیتی ہے۔ ہر طرف حالتِ نزع کے سانس کی لرزاں
آوازیں، عریانی، گناہ اور فریب ہے۔ مگر دعوٰی یہ ہے کہ عوام امن کی زندگی بسر کررہے
ہیں۔۔۔۔۔کیا اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ہماری آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھی جارہی ہے۔
ہمارے کانوں سے پگھلا ہوا سیسہ اتارا جا رہا ہے۔ ہمارے جسم مصائب کے کوڑے سے بے حس
بنائے جا رہے ہیں، کہ ہم نہ دیکھ سکیں، نہ سن سکیں اور نہ محسوس کرسکیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔انسان
جنہیں بلندیوں پر پرواز کرنا تھا کیا اسکے بال و پر نوچ کر اسے زمین پر رینگنے کیلیے
مجبور نہیں کیا جارہا؟۔۔۔۔۔۔کیا امراء کی نظر فریب عمارتیں مزدورں کے گوشت پوست سے
تیار نہیں کی جاتیں؟۔۔۔۔۔۔کیا عوام کے مکتوبِ حیات پر جرائم کی مہر ثبت نہیں کی جاتی؟
کیا مجلسی بدن کی رگوں میں بدی کا خون موجزن نہیں ہے؟ کیا جمہور کی زندگی کشمکشِ پیہم،
ان تھک محنت اور قوتِ برداشت کا مرکب نہیں ہے؟ بتاؤ، بتاؤ، بتاتے کیوں نہیں؟”
“درست
ہے۔” میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا۔
“تو
پھر اسکا علاج کرنا تمھارا فرض ہے۔۔۔۔۔۔کیا تم کوئی طریقہ نہیں بتا سکتے کہ اس انسانی
تذلیل کو کیونکر روکا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔۔مگر آہ، تمھیں معلوم نہیں، مجھے خود معلوم نہیں۔”
ٹھوڑی
دیر کے بعد وہ میرا ہاتھ پکڑ کر رازدانہ لہجے میں یوں کہنے لگا۔ “عباس، عوام سخت تکلیف
برداشت کررہے ہیں، بعض اوقات جب کبھی میں کسی سوختہ حال انسان کے سینے سے آہ بلند ہوتے
دیکھتا ہوں تو مجھے اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں شہر نہ جل جائے۔۔۔۔۔۔۔اچھا اب میں جاتا
ہوں، تم لاہور واپس کب جارہے ہو؟”
یہ
کہہ کر وہ اٹھا اور ٹوپی سنبھال کر باہر چلنے لگا۔
“ٹھہرو
میں بھی تمھارے ساتھ چلتا ہوں، کہاں جاؤ گے اب؟” اسے یک لخت کہیں جانے کیلیے تیار دیکھ
کر میں نے اسے فوراً ہی کہا۔
“مگر
میں اکیلا ہی جانا چاہتا ہوں، کسی باغ میں جاؤں گا۔”
میں
خاموش ہوگیا اور وہ ہوٹل سے نکل کر بازار کے ہجوم میں گم ہوگیا۔ اس گفتگو کے چوتھے
روز مجھے لاہور میں اطلاع ملی کہ سلیم نے میرے جانے کے بعد بازاروں میں دیوانہ وار
شور برپا کرنا شروع کردیا تھا۔ اسلیے اسے پاگل خانے میں داخل کر دیا گیا ہے۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ (سعادت حسن منٹو)
Admin
12:22 AM
0
comments
12:22 AM
0
comments
بٹوارے
کے دو تین سال بعد پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں کو خیال آیا کہ اخلاقی قیدیوں کی
طرح پاگلوں کا تبادلہ بھی ہونا چاہئے یعنی جو مسلمان پاگل ، ہندوستان کے پاگل خانوں
میں ہیں انہیں پاکستان پہنچا دیا جائے اور جو ہندو اور سکھ پاکستان کے پاگل خانوں میں
ہیں انہیں ہندوستان کے حوالے کر دیا جائے۔ .
معلوم
نہیں یہ بات معقول تھی یا غیر معقول ، بہر حال دانش مندوں کے فیصلے کے مطابق ادھر ادھر
اونچی سطح کی کانفرنسیں ہوئیں ، اور بالاخر ایک دن پاگلوں کے تبادلے کے لئے مقرّر
ہو گیا۔ اچّھی طرح چھان بین کی گئی۔ وہ مسلمان پاگل جن کے لواحقین ہندوستان ہی میں
تھے۔ وہیں رہنے دئے گئے تھے۔ جو باقی تھے ان کو سرحد پر روانہ کر دیا گیا۔ یہاں پاکستان
میں چونکہ قریب قریب تمام ہندو سکھ جا چکے تھے۔ اس لئے کسی کو رکھنے رکھانے کا سوال
ہی نہ پیدا ہوا۔ جتنے ہندو سکھ پاگل تھے۔ سب کے سب پولیس کی حفاظت میں بارڈر پر پہنچا
دیے گئے۔
ادھر
کا معلوم نہیں۔ لیکن ادھر لاہور کے پاگل خانے میں جب اس تبادلے کی خبر پہنچی تو بڑی
دلچسپ چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔ ایک مسلمان پاگل جو بارہ برس سے ہر روز با قائدگی کے ساتھ
” زمیندار ” پڑھتا تھا اس سے جب اس کے ایک دوست نے پوچھا۔ ” مولبی ساب ، یہ پاکستان
کیا ہوتا ہے “۔ تو اس نے بڑے غور و فکر کے بعد جواب دیا۔” ہندوستان میں ایک ایسی جگہ
ہے جہاں استرے بنتے ہیں “۔
یہ
جواب سن کر اس کا دوست مطمئن ہو گیا .
اسی
طرح ایک سکھ پاگل نے ایک دوسرے سکھ پاگل سے پوچھا۔” سردار جی ہمیں ہندوستان کیوں بھیجا
جا رہا ہے ہمیں تو وہاں کی بولی نہیں آتی “۔
دوسرا
مسکرایا۔ ” مجھے تو ہندوستوڑوں کی بولی آتی ہے ہندوستانی بڑے شیطانی آکڑ آکڑ پھرتے
ہیں ”
ایک
دن نہاتے نہاتے ایک مسلمان پاگل نے ” پاکستان زندہ باد ” کا نعرہ اس زور سے بلند کیا
کہ فرش پر پھسل کر گرا اور
بیہوش
ہو گیا۔
بعض
پاگل ایسے بھی تھے جو پاگل نہیں تھے۔ ان میں اکثریت ایسے قاتلوں کی تھی جن کے رشتہ
داروں نے افسروں کو دے دلا کر پاگل خانے بھجوا دیا تھا کہ پھانسی کے پھندے سے بچ جائیں۔
یہ کچھ کچھ سمجھتے تھے کہ ہندوستان کیوں تقسیم ہوا ہے اور یہ پاکستان کیا ہے۔ لیکن
صحیح واقعات سے یہ بھی بے خبر تھے۔ اخباروں سے کچھ پتا نہیں چلتا تھا اور پہرہ دار
سپاہی انپڑھ اور جاہل تھے۔ ان کی گفتگو سے بھی وہ کوئی نتیجہ برآمد نہیں کر سکتے تھے۔
ان کو صرف اتنا معلوم تھا کہ ایک آدمی محمّد علی جناح ہے جس کو قائدِ اعظم کہتے ہیں۔
اس نے مسلمانوں کے لئے ایک علیٰحدہ ملک بنایا ہے جس کا نام پاکستان ہے۔ یہ کہاں ہے
، اس کا محلِّ وقوع کیا ہے۔ اس کے متعلّق وہ کچھ نہیں جانتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پاگل
خانے میں وہ سب پاگل جن کا دماغ پوری طرح ماؤف نہیں ہوا تھا اس مخمصے میں گرفتار تھے
کہ وہ پاکستان میں ہیں یا ہندوستان میں۔ اگر ہندوستان میں ہیں تو پاکستان کہاں ہے۔
اگر وہ پاکستان میں ہیں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ عرصہ پہلے یہیں رہتے ہوئے
بھی ہندوستان میں تھے۔
ایک
پاگل تو پاکستان اور ہندوستان ، اور ہندوستان اور پاکستان کے چکّر میں کچھ ایسا گرفتار
ہوا کہ اور زیادہ پاگل ہو گیا۔ جھاڑو دیتے دیتے ایک دن درخت پر چڑھ گیا اور ٹہنے پر
بیٹھ کر دو گھنٹے مسلسل تقریر کرتا رہا جو پاکستان اور ہندوستان کے نازک مسئلے پر تھی۔
سپاہیوں نے اسے نیچے اترنے کو کہا تو وہ اور اوپر چڑھ گیا۔ ڈرایا دھمکایا گیا تو اس
نے کہا ” میں ہندوستان میں رہنا چاہتا ہوں نہ پاکستان میں۔ میں اس درخت ہی پر رہونگا
“۔
بڑی
مشکلوں کے بعد جب اس کا دورہ سرد پڑا تو وہ نیچے اترا اور اپنے ہندو سکھ دوستوں سے
گلے مل مل کر رونے لگا۔ اس خیال سے اس کا دل بھر آیا تھا کہ وہ اسے چھوڑ کر ہندوستان
چلے جائینگے۔
ایک
ایم ایس سی پاس ریڈیو انجینئر جو مسلمان تھا اور دوسرے پاگلوں سے بالکل الگ تھلگ باغ
کی ایک خاص روش پر سارا دن خاموش ٹہلتا رہتا تھا یہ تبدیلی نمودار ہوئی کہ اس نے تمام
کپڑے اتار کر دفعدار کے حوالے کر دئے اور ننگ دھڑنگ سارے باغ میں چلنا پھرنا شروع کر
دیا۔
چنیوٹ
کے ایک موٹے مسلمان پاگل نے جو مسلم لیگ کا سر گرم کارکن رہ چکا تھا اور دن میں پندرہ
سولہ مرتبہ نہایا کرتا تھا یک لخت یہ عادت ترک کر دی۔ اس کا نام محمّد علی تھا۔ چنانچہ
اس نے ایک دن اپنے جنگلے میں اعلان کر دیا کہ وہ قائدِ اعظم محمّد علی جنّاح ہے۔ اس
کی دیکھا دیکھی ایک سکھ پاگل ماسٹر تارا سنگھ بن گیا۔ قریب تھا کہ اس جنگلے میں خون
خرابہ ہو جائے مگر دونوں کو خطرناک پاگل قرار دے کر علیحدہ علیحدہ بند کر دیا گیا۔
لاہور
کا ایک نوجوان ہندو وکیل تھا جو محبّت میں نا کام ہو کر پاگل ہو گیا تھا۔ جب اس نے
سنا کہ امرتسر ہندوستان میں چلا گیا ہے تو اسے بہت دکھ ہوا۔ اسی شہر کی ایک ہندو لڑکی
سے اسے محبّت ہو گئی تھی۔ گو اس نے اس وکیل کو ٹھکرا دیا تھا مگر دیوانگی کی حالت میں
بھی وہ اس کو نہیں بھولا تھا۔ چنانچہ ان تمام ہندو اور مسلم لیڈروں کو گالیاں دیتا
تھا جنہوں نے مل ملا کر ہندوستان کے دو ٹکڑے کر دئےاس کی محبوبہ ہندوستانی بن گئی اور
وہ پاکستانی۔
جب
تبادلے کی بات شروع ہوئی تو وکیل کو کئی پاگلوں نے سمجھایا کہ وہ دل برا نہ کرے۔ اس
کو ہندوستان بھیج دیا جائیگا۔ اس ہندوستان میں جہاں اس کی محبوبہ رہتی ہے۔ مگر وہ لاہور
چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اس لئے کہ اس کا خیال تھا کہ امرتسر میں اس کی پریکٹس نہیں
چلےگی۔
یوروپین
وارڈ میں دو اینگلو انڈین پاگل تھے۔ ان کو جب معلوم ہوا کہ ہندوستان کو آزاد کر کے
انگریز چلے گئے ہیں تو ان کو بہت صدمہ ہوا۔ وہ چھپ چھپ کر گھنٹوں آپس میں اس اہم مسئلے
پر گفتگو کرتے رہتے کہ پاگل خانے میں ان کی حیثیت کس قسم کی ہوگی۔ یوروپین وارڈ رہیگا
یا اڑا دیا جائیگا۔ بریک فاسٹ ملا کریگا یا نہیں۔ کیا انہیں ڈبل روٹی کے بجائے بلڈی
انڈین چپاٹی تو زہر مار نہیں کرنا پڑیگی۔
ایک
سکھ تھا جس کو پاگل خانے میں داخل ہوئے پندرہ برس ہو چکے تھے۔ ہر وقت اس کی زبان سے
یہ عجیب و غریب الفاظ سننے میں آتے تھے۔ ” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی
منگ دی دال آف دی لالٹین”۔ دن کو سوتا تھا نہ رات کو۔ پہرہ داروں کا یہ کہنا تھا کہ
پندرہ برس کے طویل عرصے میں وہ ایک لحظے کے لئے بھی نہیں سویا۔ لیٹتا بھی نہیں تھا۔
البتّہ کبھی کبھی کسی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لیتا تھا۔
ہر
وقت کھڑے رہنے سے اس کے پاؤں سوج گئے تھے۔ پنڈلیاں بھی پھول گئی تھیں۔ مگر اس جسمانی
تکلیف کے باوجود لیٹ کر آرام نہیں کرتا تھا۔ ہندوستان ، پاکستان اور پاگلوں کے تبادلے
کے متعلّق جب کبھی پاگل خانے میں گفتگو ہوتی تھی تو وہ غور سے سنتا تھا۔ کوئی اس سے
پوچھتا کہ اس کا کیا خیال ہے تو وہ بڑی سنجیدگی سے جواب دیتا۔” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس
دی بے دھیانا دی مونگ دی دال آف دی پاکستان گورنمنٹ “۔
لیکن
بعد میں ” آف دی پاکستان گورنمنٹ ” کی جگہ ” آف دی ٹوبہ ٹیک سنگھ گورنمنٹ ” نے لے لی
اور اس نے دوسرے پاگلوں سے پوچھنا شروع کیا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے جہاں کا وہ رہنے
والا ہے۔ لیکن کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں۔ جو
بتانے کی کوشش کرتے تھے وہ خود اس الجھاؤ میں گرفتار ہو جاتے تھے کہ سیالکوٹ پہلے ہندوستان
میں ہوتا تھا پر اب سنا ہے کہ پاکستان میں ہے۔ کیا پتا ہے کہ لاہور جو اب پاکستان میں
ہے کل ہندوستان میں چلا جائے۔ یا سارا ہندوستان ہی پاکستان بن جائے۔ اور یہ بھی کون
سینے پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کسی دن سرے سے غیب
ہی ہو جائیں۔
اس
سکھ پاگل کے کیس چھدرے ہو کے بہت مختصر رہ گئے تھے۔ چونکہ بہت کم نہاتا تھا اس لئے
ڈاڑھی اور سر کے بال آپس میں جم گئے تھے۔ جن کے باعث اس کی شکل بڑی بھیانک ہو گئی تھی۔
مگر آدمی بے ضرر تھا۔ پندرہ برسوں میں اس نے کبھی کسی سے جھگڑا فساد نہیں کیا تھا۔
پاگل خانے کے جو پرانے ملازم تھے وہ اس کے متعلّق اتنا جانتے تھے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ
میں اس کی کئی زمینیں تھیں۔ اچّھا کھاتا پیتا زمین دار تھا کہ اچانک دماغ الٹ گیا۔
اس کے رشتہ دار لوہے کی موٹی موٹی زنجیروں میں اسے باندھ کر لائے اور پاگل خانے میں
داخل کرا گئے۔
مہینے
میں ایک بار ملاقات کے لئے یہ لوگ آتے تھے اور اس کی خیر خیریت دریافت کر کے چلے جاتے
تھے۔ ایک مدّت تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ پر جب پاکستان ، ہندستان کی گڑبڑ شروع ہوئی تو
ان کا آنا بند ہو گیا۔
اس
کا نام بشن سنگھ تھا مگر سب اسے ٹوبہ ٹیک سنگھ کہتے تھے۔ اس کو قطعاً معلوم نہیں تھا
کہ دن کون سا ہے ، مہینہ کون سا ہے ، یا کتنے سال بیت چکے ہیں۔ لیکن ہر مہینے جب اس
کے عزیز و اقارب اس سے ملنے کے لئے آتے تھے تو اسے اپنے آپ پتا چل جاتا تھا۔ چنانچہ
وہ دفعدار سے کہتا کہ اس کی ملاقات آ رہی ہے۔ اس دن وہ اچّھی طرح نہاتا ، بدن پر خوب
صابن گھستا اور سر میں تیل لگا کر کنگھا کرتا ، اپنے کپڑے جو وہ کبھی استعمال نہیں
کرتا تھا نکلوا کے پہنتا اور یوں سج بن کر ملنے والوں کے پاس جاتا۔ وہ اس سے کچھ پوچھتے
تو وہ خاموش رہتا یا کبھی کبھار ” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی مونگ دی
دال آف دی لالٹین ” کہ دیتا۔
اس
کی ایک لڑکی تھی جو ہر مہینے ایک انگلی بڑھتی بڑھتی پندرہ برسوں میں جوان ہو گئی تھی۔
بشن سنگھ اس کو پہچانتا ہی نہیں تھا۔ وہ بچّی تھی جب بھی اپنے باپ کو دیکھ کر روتی
تھی ، جوان ہوئی تب بھی اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے تھے۔
پاکستان
اور ہندوستان کا قصّہ شروع ہوا تو اس نے دوسرے پاگلوں سے پوچھنا شروع کیا کہ ٹوبہ ٹیک
سنگھ کہاں ہے۔ جب اطمینان بخش جواب نہ ملا تو اس کی کرید دن بدن بڑھتی گئی۔ اب ملاقات
بھی نہیں آتی تھی۔ پہلے تو اسے اپنے آپ پتہ چل جاتا تھا کہ ملنے والے آ رہے ہیں ، پر
اب جیسے اس کے دل کی آواز بھی بند ہو گئی تھی جو اسے ان کی آمد کی خبر دے دیا کرتی
تھی۔
اس
کی بڑی خواہش تھی کہ وہ لوگ آئیں جو اس سے ہم دردی کا اظہار کرتے تھے اور اس کے لئے
پھل ، مٹھائیاں اور کپڑے لاتے تھے۔ وہ اگر ان سے پوچھتا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے تو
وہ یقیناً اسے بتا دیتے کہ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں۔ کیونکہ اس کا خیال تھا
کہ وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ہی سے آتے ہیں جہاں اس کی زمینیں ہیں۔
پاگل
خانے میں ایک پاگل ایسا بھی تھا جو خود کو خدا کہتا تھا۔ اس سے جب ایک روز بشن سنگھ
نے پوچھا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں ، تو اس نے حسبِ عادت قہقہہ
لگایا اور کہا۔” وہ پاکستان میں ہے نہ ہندوستان میں۔ اس لئے کہ ہم نے ابھی تک حکم نہیں
دیا “۔
بشن
سنگھ نے اس خدا سے کئی مرتبہ بڑی منّت سماجت سے کہا کہ وہ حکم دے دے تاکہ جھنجھٹ ختم
ہو مگر وہ بہت مصروف تھا اسلئے کہ اسے اور بے شمار حکم دینے تھے۔ ایک دن تنگ آ کر وہ
اس پر برس پڑا۔ ” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف واہے گورو
جی دا خالصہ اینڈ واہے گورو جی کی فتح جو بولے سو نہال ، ست سری اکال “۔
اس
کا شاید یہ مطلب تھا کہ تم مسلمانوں کے خدا ہو سکھوں کے خدا ہوتے تو ضرور میری سنتے۔
تبادلے
سے کچھ دن پہلے ٹوبہ ٹیک سنگھ کا ایک مسلمان جو اس کا دوست تھا ملاقات کے لئے آیا۔
پہلے وہ کبھی نہیں آیا تھا۔ جب بشن سنگھ نے اسے دیکھا تو ایک طرف ہٹ گیا اور واپس جانے
لگا۔ مگر سپاہیوں نے اسے روکا۔ ” یہ تم سے ملنے آیا ہے تمہارا دوست فضل دین ہے “۔
بشن
سنگھ نے فضل دین کو ایک نظر دیکھا اور کچھ بڑبڑانے لگا۔ فضل دین نے آگے بڑھ کر اس کے
کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ” میں بہت دنوں سے سوچ رہا تھا کہ تم سے ملوں لیکن فرصت ہی نہ
ملی تمہارے سب آدمی خیریت سے ہندوستان چلے گئے تھے مجھ سے جتنی مدد ہو سکی ، میں نے
کی۔ تمہاری بیٹی روپ کور . . . . ”
وہ
کچھ کہتے کہتے رک گیا۔ بشن سنگھ کچھ یاد کرنے لگا۔” بیٹی روپ کور “۔
فضل
دین نے رک رک کر کہا۔ ” ہاں . . . . وہ . . . . وہ بھی ٹھیک ٹھاک ہے۔۔۔ان کے ساتھ ہی
چلی گئی تھی “۔
بشن
سنگھ خاموش رہا۔ فضل دین نے کہنا شروع کیا۔ ” انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ تمہاری خیر
خیریت پوچھتا رہوں۔ اب میں نے سنا ہے کہ تم ہندوستان جا رہے ہو۔ بھائی بلبیسر سنگھ
اور بھائی ودھاوا سنگھ سے میرا سلام کہنا-اور بہن امرت کور سے بھی . . . . بھائی بلبیسر
سے کہنا۔ فضل دین راضی خوشی ہے۔ وہ بھوری بھینسیں جو وہ چھوڑ گئے تھے۔ ان میں سے ایک
نے کٹّا دیا ہے۔ دوسری کے کٹّی ہوئی تھی پر وہ چھ دن کی ہو کے مر گئی . . . . اور
. . . . میری لائق جو خدمت ہو ، کہنا ، میں ہر وقت تیار ہوں . . . . اور یہ تمہارے
لئے تھوڑے سے مرونڈے لایا ہوں “۔
بشن
سنگھ نے مرونڈوں کی پوٹلی لے کر پاس کھڑے سپاہی کے حوالے کر دی اور فضل دین سے پوچھا۔
“ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟ “۔
فضل
دین نے قدرے حیرت سے کہا۔ ” کہاں ہے؟ وہیں ہے جہاں تھا “۔
بشن
سنگھ نے پھر پوچھا۔ ” پاکستان میں یا ہندوستان میں ؟ ”
” ہندوستان میں نہیں
پاکستان میں “۔ فضل دین بوکھلا سا گیا۔
بشن
سنگھ بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔ ” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف
دی آف دی پاکستان اینڈ ہندوستان آف دی دور فٹے منہ ! ،،
تبادلے
کے تیاریاں مکمّل ہو چکی تھیں۔ ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر آنے والے پاگلوں کی فہرستیں
پہنچ گئی تھیں اور تبادلے کا دن بھی مقرّر ہو چکا تھا۔
سخت
سردیاں تھیں جب لاہور کے پاگل خانے سے ہندو سکھ پاگلوں سے بھری ہوئی لاریاں پولیس کے
محافظ دستے کے ساتھ روانہ ہوئیں۔ متعلّقہ افسر بھی ہمراہ تھے۔ واہگہ کے بورڈر پر طرفین
کے سپرنٹندنٹ ایک دوسرے سے ملے اور ابتدائی کاروائی ختم ہونے کے بعد تبادلہ شروع ہو
گیا جو رات بھر جاری رہا۔
پاگلوں
کو لاریوں سے نکالنا اور دوسرے افسروں کے حوالے کرنا بڑا کٹھن کام تھا۔ بعض تو باہر
نکلتے ہی نہیں تھے۔ جو نکلنے پر رضا مند ہوتے تھے۔ ان کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا تھا۔
کیونکہ ادھر ادھر بھاگ اٹھتے تھے ، جو ننگے تھے ان کو کپڑے پہنائے جاتے تو وہ پھاڑ
کر اپنے تن سے جدا کر دیتے۔کوئی گالیاں بک رہا ہے۔ کوئی گا رہا ہے۔ آپس میں لڑ جھگڑ
رہے ہیں۔ رو رہے ہیں ، بلک رہے ہیں۔ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ پاگل عورتوں
کا شور و غوغا الگ تھا اور سردی اتنی کڑاکے کی تھی کہ دانت سے دانت بج رہے تھے۔
پاگلوں
کی اکثریت اس تبادلے کے حق میں نہیں تھی۔ اسلئے کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ
انہیں اپنی جگہ سے اکھاڑ کر کہاں پھینکا جا رہا ہے۔ وہ چند جو کچھ سوچ سمجھ سکتے تھے
” پاکستان زندہ باد ” اور ” پاکستان مردہ باد ” کے نعرے لگا رہے تھے۔ دو تین مرتبہ
فساد ہوتے ہوتے بچا ، کیونکہ بعض مسلمانوں اور سکھوں کو یہ نعرے سن کر طیش آ گیا تھا۔
جب
بشن سنگھ کی باری آئی اور واہگہ کے اس پار متعلّقہ افسر اس کا نام رجسٹر میں درج کرنے
لگا تو اس نے پوچھا۔ ” ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟ پاکستان میں یا ہندوستان میں ؟
معتلّقہ
افسر ہنسا۔ ” پاکستان میں “۔
یہ
سن کر بشن سنگھ اچھل کر ایک طرف ہٹا اور دوڑ کر اپنے باقی ماندہ ساتھیوں کے پاس پہنچ
گیا۔ پاکستانی سپاہیوں نے اسے پکڑ لیا اور دوسری طرف لے جانے لگے ، مگر اس نے چلنے
سے انکار کر دیا۔ “ٹوبہ ٹیک سنگھ یہاں ہے ” اور زور زور سے چلّانے لگا۔ ” اوپڑ دی گڑ
گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف ٹوبہ ٹیک سنگھ اینڈ پاکستان “۔
اسے
بہت سمجھایا گیا کہ دیکھو اب ٹوبہ ٹیک سنگھ ہندوستان میں چلا گیا ہے۔اگر نہیں گیا تو
اسے فوراً وہاں بھیج دیا جائیگا۔ مگر وہ نہ مانا۔ جب اس کو زبردستی دوسری طرف لے جانے
کی کوشش کی گئی تو وہ درمیان میں ایک جگہ اس انداز میں اپن سوجی ہوئی ٹانگوں پر کھڑا
ہو گیا جیسے اب اسے کوئی طاقت وہاں سے نہیں ہلا سکے گی۔
آدمی
چونکہ بے ضرر تھا اس لئے اس سے مزید زبردستی نہ کی گئی ، اس کو وہیں کھڑا رہنے دیا
گیا اور تبادلے کا باقی کام
ہوتا
رہا۔
سورج
نکلنے سے پہلے ساکت و صامت بشن سنگھ کے حلق سے ایک فلک شگاف چیخ نکلی۔ ادھر ادھر سے
کئی افسر دوڑے آئے اور دیکھا کہ وہ آدمی جو پندرہ برس تک دن رات اپنی ٹانگوں پر کھڑا
رہا ، اوندھے منہ لیٹا ہے۔ ادھر خاردار تاروں کے پیچھے ہندوستان تھا ادھر ویسے ہی تاروں
کے پیچھے پاکستان۔ درمیان میں زمین کے اس ٹکڑے پر جس کا کوئی نام نہیں تھا۔ ٹوبہ ٹیک
سنگھ پڑا تھا۔
Saturday, February 16, 2013
روم (اٹلی)
Admin
9:15 PM
0
comments
9:15 PM
0
comments
روم
اٹلی کا سب سے بڑا اور اہم شہر ہے ۔ یہ شہر1871ء سے اٹلی کا دارالحکومت چلا آرہا ہے ۔ آرکیالوجیکل سروے کے مطابق یہ شہرر 14ہزار سال پہلے بھی آباد تھا، ایک اورروایت کے مطابق اس شہر سے 10ہزار برس قبل استعمال ہونے والے پتھروں کے ہتھیار اور وہاں موجود انسانی زندگی کے آثار بھی برآمد ہوئے ہیں یہ دونوں روایات کس حد تک درست ہیں اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن اس شہرِ قدیم کے بارے میں اتنا ضرور ہے کہ یہ شہر آٹھویں صدی قبل مسیح میں آباد ہوا اس لحاظ سے یہ شہر اپنی ثقافت، روایات اور دلکشی کے اعتبار سے اہم تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک طویل عرصے تک اس شہر نے دنیا میں دوسری تہذیبوں کے مقابلے میں اپنی انفرادیت برقرار رکھی اور دنیا کے پرکشش اور سیاحوں کے لیے خاص دلچسپ مقامات میں اس کا شمار ہوتا ہے۔
اٹلی کا سب سے بڑا اور اہم شہر ہے ۔ یہ شہر1871ء سے اٹلی کا دارالحکومت چلا آرہا ہے ۔ آرکیالوجیکل سروے کے مطابق یہ شہرر 14ہزار سال پہلے بھی آباد تھا، ایک اورروایت کے مطابق اس شہر سے 10ہزار برس قبل استعمال ہونے والے پتھروں کے ہتھیار اور وہاں موجود انسانی زندگی کے آثار بھی برآمد ہوئے ہیں یہ دونوں روایات کس حد تک درست ہیں اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن اس شہرِ قدیم کے بارے میں اتنا ضرور ہے کہ یہ شہر آٹھویں صدی قبل مسیح میں آباد ہوا اس لحاظ سے یہ شہر اپنی ثقافت، روایات اور دلکشی کے اعتبار سے اہم تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک طویل عرصے تک اس شہر نے دنیا میں دوسری تہذیبوں کے مقابلے میں اپنی انفرادیت برقرار رکھی اور دنیا کے پرکشش اور سیاحوں کے لیے خاص دلچسپ مقامات میں اس کا شمار ہوتا ہے۔
یہ شہر اس خطے
میں اپنے قیام سے ہی خاص سیاسی اور مذہبی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یہ شہر وسطی اٹلی
میں سمندر سے پندرہ میل فاصلے پر موجود دریائے ٹائبر کے کنارے آباد ہے۔یہ شہر
صدیوں پہلے پہاڑیوں پر تعمیر کیا گیا تھا
روایات کے مطابق 759 قبل مسیح میں یہ شہر سات پہاڑیوں میں سے ایک پر آباد
ہوا اسے نسبت سے اسے ”سات پہاڑیوں کا شہر“ بھی کہا جاتا ہے۔2011ء میں کیے گئے ایک
سروے کے مطابق روم کی کل آبادی ستائیس لاکھ ستتر ہزار نو سو اسی افراد پر مشتعمل
تھی۔ یہ قدیم ثقافتی شہر اب جدید روم کی
صرف 41٪ عمارتوں پر مشتعمل ہے لیکن زمانے
کے بڑھتے ہوئے جدید تضاضوں کے مطابق خود کو ڈھالتے ہوئے بھی اس شہرِ بے مثال نے
اپنی ثقافت، روایات کو قدیم روم کی صورت میں ابھی بھی برقرار رکھا ہے ۔ پرانا روم
شہر 300 ہوٹلوں، 200 محلوں اور 20 چرچوں پر مشتمل ہے ۔ پارلیمنٹ ہاؤس ، صدر ہاؤس
اور کئی اہم سرکاری و نیم سرکاری عمارتیں بھی اسی شہر میں موجود ہیں ۔ اس شہر میں پارک،
چڑیا گھر اور بہت سے تفریحی مقامات ہیں ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں کی تعداد میں
سیاح اس قدیم اور تاریخی شہر میں گزرے
ہوئے زمانوں کا عکس موجودہ دور کے آئینوں میں
دیکھنے کے لیے یہاں کا رْخ کرتے ہیں۔
روم کئی کاروباری لحاظ سے بھی اٹلی میں اپنی ایک الگ پہچان
رکھتا ہے کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں ، ایجنسیوں اور بہت سے حکومتی اداروں کی مرکزی
شاخیں بھی یہیں موجود ہیں۔ روم میں یونائٹیڈ نیشنشز فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن، انٹرنیشنل فنڈ
برائے ایگریکلچر ڈویلپمینٹ اور ورلڈ فوڈ پروگرام کی شاخیں بھی شامل ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد روم نے حیران کن حد تک ترقی کی ۔ ٹیکسٹائل اور ادویات سازی کی صنعت کو
جدید بنیادوں پر فروغ دیا اور فلم سازی پر
خصوصی توجہ دی اور انہی میں عالمی سطح پر نام پیدا کیا۔
گرمیوں میں روم کا درجہ حرارت 25 ڳ اور سردیوں میں 7ڳ ڈی سی
ہوتا ہے۔ رومن پاپا کی بارگاہ ”ویٹی کن سٹی“ روم کے وسط میں چاروں طرف سے گھری
ہوئی خوبصورت ریاست کا دلکش منظر پیش کرتی ہے اس علاقے کا مکمل اختیار رومن کیتھولک چرچ کے ہاتھ ہے 1929ء میں اٹلی کی حکومت نے چرچ کو
خودمختار ریاست چلانے کی اجازت دے دی تھی دنیا پھر میں مذہبی لحاظ سے اسے تعظیم کی
نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ”ویٹی کن سٹی“ کا
شاندار گنبد روم کی دلکشی و خوبصورتی میں
شاندار اضافہ کرتا ہے۔ روم کی عمارتوں کو دنیا کے مشہور تاریخ ساز
معماروں نےحسن بخشا 2000 برس پرانی
عمارتیں بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ روم
کو دنیا کے باقی قدیم شہروں سے مختلف کرتی ہیں ۔ یورپ کا مصروف ترین بین
الاقوامی ہوائی اڈہ بھی روم میں سمندی
کنارے کے قریب واقع ہے۔رومن Clossumایک
بہت بڑی اوپن ائیر تفریح گاہ 80 اے ڈی میں
مکمل ہوئی جس کا شمار روم کی خوبصورت ترین جگہوں میں ہوتا ہےاور اس میں پچاس ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجایش ہےیہ یہ سمندی
طوفا ن سے تباہ ہوا اور آج تک یادگار کے طور پر موجود ہے۔Flavia Ámphitheater نامی
تفریح گاہ 82-70 ÁÐ میں تعمیر ہوئی اس میں
مختلف سطحوں پر کئی تہہ خانے بنائے گئے
اور پرانے وقتوں میں یہ جگہ شیر کی لڑائی کے لیے اسٹیج کے طور پر استعمال
کی جاتی تھی اور دنیا کے مشہور ترین فنِ تعمیر کے نمونوں میں شمار ہوتی ہے اور
عالمی عجوبے کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔ روم کی
ایک دلچسپ اور پر تجسس جگہ Fountain Trevi ہے جسے
اٹھارویں صدی میں Salvi Nicola نے
تعمیر کیا یہ اٹلی کے Àrt queoBor کی زندہ
مثال ہے یہ فاونٹین گھوڑوں اور دیوتاؤں کے
مجسموں سے سجا ہوا ہے ۔ روایت کے مطابق
اگر کوئی شخص اس میں کوئی سکہ پھیکنے
اور وہ یقینا دوبارہ بھی ہیں آئے گا
بلکہ یہ یقین وہاں اس قدر پختہ ہے کہ وہ
شخص یقینا وہاں آئے گا ۔
| Trevi Fountain. |
آج کا شعر
دلوں میں فرق پڑ جائے تو اتنا یاد رکھنا تم
دلیلیں، منتیں ، سب فلسفے بیکار جاتے ہیں
Powered by Blogger.
آج کا شاعر
Faiz Ahmad Faiz
موضوعات
- Afsaanay (1)
- Facebook Cover pictures (1)
- MANTO (1)
- Mantoo (1)
- Rome (1)
- افسانے (1)
- افسانے، سعادت حسن منٹو، (1)
- روم، travel the world (1)
- منٹو (1)

